نئی دہلی،یکم اگست (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) راجیہ سبھا میں حکومت کے پاس اکثریت نہ ہونے کے باوجود تین طلاق بل پاس ہو گیا-ایوان بالا میں حکومت کو ملی اس کامیابی پر کمزور اپوزیشن کی قلعی کھل گئی لیکن اب اپوزیشن نے حکومت پر تین طلاق بل کو دھوکے سے پاس کرانے کا الزام لگایا ہے-چہارشنبہ کو راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر غلام نبی آزاد نے دیگر رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کی-انہوں نے الزام لگایا کہ بل پیش ہونے کے بارے میں اپوزیشن کو نہیں پتہ تھا، حکومت نے اچانک ہی ایوان میں بل پیش کر دیا-غلام نبی آزاد نے کہا کہ تین طلاق بل پر حکومت کو ہمارا موقف معلوم تھا، اپوزیشن میں اس کو لے کر ایک رضامندی بننے بھی لگی تھی-لیکن حکومت نے بغیر مطلع کئے بل کو پیش کر دیا، اسی وجہ سے ہم اپنے ممبران پارلیمنٹ کو اطلاع نہیں دے پائے -کانگریس لیڈر نے کہا کہ حکومت نے بل کو کاروباری لسٹ میں ڈال دیا، اسی کے بعد ہمیں پتہ لگا کہ تین طلاق بل آ رہا ہے-بی جے پی نے اپنے اراکین پارلیمان کے لیے وہپ جاری کر دیا اور اپوزیشن کو کچھ معلوم ہی نہیں تھا-انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کو صبح ہی اس بارے میں پتہ لگا، جس کا فائدہ بی جے پی کو ہوا لیکن پارلیمنٹ اس طرح کام نہیں کرتی ہے-غلام نبی آزاد کے ساتھ ٹی ایم سی کے ڈیریک او برائن، آنند شرما سمیت اپوزیشن کے دیگر لیڈر پریس کانفرنس میں موجود رہے-ڈیریک اوبرائن نے بھی کہا کہ تین طلاق بل کے معاملے میں حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو دھوکہ دیا گیا ہے،اچانک اس طرح بل پیش کرنا غلط ہے- انہوں نے کہا کہ ہم قانون بنا رہے ہیں یا پھر پیزا ڈلیور کر رہے ہیں -اپوزیشن پارٹیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے درمیان اس بل کو سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنے کی بات پر رضامندی بن رہی تھی، لیکن حکومت نے جس طرح اس بل کو پیش کیا ہے اس سے وہ نہیں ہو سکا-تین طلاق بل راجیہ سبھا سے بھی پاس ہو گیا ہے، یعنی اس کے قانون بننے کا راستہ صاف ہو گیا ہے-راجیہ سبھا میں بل پرووٹنگ کے دوران اپوزیشن کے اتحاد میں نقب لگتی نظر آئی جس پر ہر کوئی سوال کھڑے کر رہا ہے-اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اور حیدرآباد سے ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے بھی اپوزیشن پارٹیوں پر سوال کھڑے کیے ہیں -انہوں نے کہاہے کہ ویسے یہ پارٹیاں مسلمانوں کی ہمدرد بنتی ہیں، لیکن انہیں جواب دیناچاہیے کہ یہ لوگ کل کہاں تھے-اسد الدین اویسی نے کہاہے کہ بڑی بڑی پارٹیاں سماجوادی پارٹی-بی ایس پی، مسلمانوں کی ہمدردبنتی ہیں لیکن ووٹنگ کے دوران ان کے ایم پی ہی غائب رہے-اسد الدین اویسی نے کہا کہ ان تمام جماعتوں کو بتانا چاہیے کہ ووٹنگ کے وقت ان کے ایم پی کہاں غائب تھے؟-اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں امید ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ والے سپریم کورٹ میں اس فیصلے کی مخالفت کریں گے- کانگریس کو وہپ جاری کرنے کا وقت نہ مل پانے پر اویسی نے کہا کہ آخر وہپ جاری کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟ پھربھی یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے-انہوں نے کہا کہ اگر غلام نبی آزاد ایسی بات کہتے ہیں تو یہ چونکانے والی بات ہے،آج کل تو فون پر بھی وہپ جاری ہو جاتے ہیں -
غورطلب ہے کہ راجیہ سبھا میں جب منگل کو تین طلاق بل پر ووٹنگ ہو رہی تھی، تو کئی جماعتوں کے ایم پی ایوان سے غائب رہے-اسی کا فائدہ حکومت کو ملا اور آسانی سے تین طلاق بل پاس ہو گیا،تین طلاق بل کے حق میں 99اور مخالفت میں 84ووٹ پڑے تھے-منگل کو ووٹنگ کے دوران تقریباً25 سے زائدایم پی غائب رہے تھے-ان میں بی ایس پی کے چار، ایس پی کے سات، این سی پی کے2 کانگریس کے 5ایم پی شامل تھے-اپوزیشن کے اس اتحاد میں نقب کی ہر کوئی تنقید کر رہا ہے-خود اپوزیشن کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کی طرف سے بل کے بارے میں صحیح وقت پرمعلومات نہیں دی گئی تھیں -راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر غلام نبی آزاد کا کہنا ہے کہ ہم اپنے اراکین پارلیمان کو وہپ جاری نہیں کرپائے، کیونکہ حکومت کی جانب سے اچانک بل کو ایوان میں پیش کر دیا گیا-